ابنا: فلسطين کي نام نہاد محدود خود مختار انتظاميہ کے اعداد وشمار کے ادارے نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کي اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ انيس سو اڑتاليس ميں فلسطين پر صہيوني حکومت کےغاصبانہ قبضےکے بعد سے اب تک بے گھر ہونے والے فلسطيني پناہ گزينوں کي تعداد اکياون لاکھ ہوگئي ہے- فلسطيني انتظاميہ کے مذکورہ ادارے نے اپني رپورٹ ميں لکھا ہے کہ اس وقت فلسطيني پناہ گزين دنيا کے مختلف ملکوں ميں منتشر ہيں جو غريب الوطني، مشکلات اور رنج وآلام کے دن کاٹ رہے ہيں - اقوام متحدہ کي اعداد وشمار کے مطابق فلسطيني پناہ گزينوں کي سب سے زيادہ تعداد اردن شام لبنان جيسے ہمسايہ ملکوں اور خليج فارس کے عرب ملکوں ميں ہے- اعداد وشمار کےمطابق پچيس لاکھ فلسطيني اردن ميں پناہ لئے ہوئے ہيں اور تقريبا پانچ لاکھ فلسطيني شام ميں آوارہ وطني کي زندگي گذار رہے ہيں جبکہ چار لاکھ فلسطيني پناہ گزين لبنان ميں موجود ہيں- اس کےعلاوہ بقيہ فلسطيني پناہ گزين مختلف ملکوں ميں منتشر ہيں - يہاں يہ بات قابل ذکر ہے کہ انيس سواڑتاليس ميں سرزمين فلسطين پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے بعد صہيوني حکومت نے فلسطينيوں کو ترک وطن پر مجبور کرنے کي پاليسي پر کام شروع کرديا تھا اور وہ فلسطينيوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے ملکوں ميں پناہ لينے پر مجبور کرتي رہي ہے اور اس کي يہ پاليسي آج بھي امريکي حمايت سے جاري ہے، چنانچہ صہيوني حکومت زبردستي فلسطيني علاقوں ميں صہيوني بستياں بسا رہي ہے جس کے لئے وہ فلسطيينوں کي اراضي اور ان کے رہائشي علاقوں پر جبرا قبضہ کرليتي ہے اور انہيں اپنے گھر چھوڑ نے پرمجبور کرتي ہے- فلسطينيوں کي اراضي پر قبضہ کرنے کے لئے اسرائيلي حکومت دن دہاڑے ان کے رہائشي مکانات کو بلڈوزروں سے منہدم کر کے وہاں اپنا قبضہ جماليتي ہے - صہيوني حکومت کي کوشش ہے کہ وہ اردن کو ہي فلسطينيوں کے وطن ميں تبديل کردے مگر اسرائيل کي اس گھناؤني سازش کي اردن کے عوام اور مختلف گروہوں نے سختي سےمخالفت کي ہے - صہيوني حکومت کي اس توسيع پسندانہ پاليسي کي حمايت ميں امريکي کانگريس نے ايک منصوبہ بھي پيش کيا ہےجس ميں کہا گيا ہے کہ انيس سو سڑسٹھ کے زير قبضہ فلسطيني علاقوں کے پناہ گزيں فلسطينيوں کا وطن واپسي کا حق ان سے چھين ليا جائے- اس منصوبے کے مطابق پناہ گزين فلسيطنيوں کے بچوں اور اولادوں کو بھي واپس فلسطين لوٹنے کا حق نہيں ہے- مگر امريکا اور اسرائيل کے اس منصوبے کي فلسطينيوں کے ساتھ دنيا کے مختلف ملکوں منجملہ اردن اور لبنان نے بھرپور مخالفت کي ہے- يہ ايسي حالت ميں ہے کہ اقوام متحدہ کي قرارداد ايک سو چورانوے کے تحت فلسطيني پناہ گزينوں کو ان کے وطن واپس لوٹنے کا حق ديا گيا ہے - دوسري جانب فلسطين کي مختلف جہادي تنظيموں منجملہ حماس اور جہاد اسلامي نے بارہا اعلان کيا ہے کہ فلسطيني پناہ گزينوں کو اپنے وطن واپس لوٹنے ديا جائے- حماس کے سياسي دفتر کے سينئر عہديدار محمود الزہار نے بھي فلسطينيوں کي وطن واپسي کے حق پر زور ديتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطين بحر سے نہر تک فلسطينيوں کا ہے اور وقت و زمانے کے گذر جانے سے فلسطينيوں کے حقوق ميں ذرہ برابر تبديلي نہيں آئي ہے اور وطن واپسي فلسطينيوں کا بنيادي حق ہے - فلسطين تنظيم فتح نے بھي عالمي برادري سے کہا ہے کہ وہ فلسطيني قوم کي حمايت کے تعلق سے اپني ذمہ داري ادا کرے اور صہيوني حکومت پر دباؤ ڈال کر فلسطينيوں کي وطن واپسي کي راہ ہموار کرے -......./169
20 جون 2012 - 19:30
News ID: 323858
سرزمين فلسطين پر صہيوني حکومت کے غاصبانہ قبضےکے نتيجے ميں اپنے گھروں سے بے گھر ہوکے پناہ گزيني کي زندگي گذارنے والے فلسطينيوں کي تعداد پچاس لاکھ سے زيادہ ہوگئي ہے -